:
Breaking News

آپریشن آکٹوپس 2.0: حیدرآباد پولیس کا بڑا ایکشن، بینک ملازمین سمیت درجنوں گرفتار

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

حیدرآباد پولیس نے “آپریشن آکٹوپس 2.0” کے تحت ایک بڑے سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے 9 ریاستوں سے 52 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 32 بینک ملازمین بھی شامل ہیں۔

سائبر جرائم کے ایک وسیع نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ “آپریشن آکٹوپس 2.0” کے تحت کی گئی اس کارروائی میں ملک کی 9 مختلف ریاستوں سے مجموعی طور پر 52 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں حیران کن طور پر 32 بینک ملازمین بھی شامل ہیں۔

یہ انکشاف سائبر کرائم کے ڈی سی پی وی اروند بابو نے کیا، جنہوں نے بتایا کہ یہ پورا نیٹ ورک انتہائی منظم انداز میں کام کر رہا تھا اور اس میں بینکوں کے اندرونی اہلکار بھی شامل تھے جو جعلی کھاتوں (مَیول اکاؤنٹس) کے ذریعے سائبر فراڈ کی رقم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔

بڑے پیمانے پر منظم سائبر نیٹ ورک

پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک صرف ایک شہر یا ریاست تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار کئی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا، جن میں مہاراشٹر، دہلی، کرناٹک اور تلنگانہ شامل ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ بینک کے اندر موجود اہلکاروں کی مدد سے جعلی اکاؤنٹس کھولتا تھا اور ان اکاؤنٹس کو غیر قانونی مالی لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

بینک ملازمین کا کردار

گرفتار افراد میں بینک مینیجرز، کلرکس اور KYC (Know Your Customer) اسٹاف شامل ہیں۔ یہ ملازمین مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر اکاؤنٹس کھولنے میں مدد کرتے تھے اور پھر ان اکاؤنٹس کو سائبر مجرموں کے حوالے کر دیتے تھے۔

پولیس کے مطابق یہ اکاؤنٹس “مَیول اکاؤنٹس” کے طور پر استعمال ہوتے تھے جن کے ذریعے فراڈ کی رقم کو مختلف چینلز سے گزارا جاتا تھا تاکہ اس کا سراغ نہ لگ سکے۔

چھاپوں میں کیا برآمد ہوا؟

پولیس نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی مشترکہ کارروائی میں متعدد اہم ثبوت برآمد کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

26 موبائل فون

14 چیک بکس

21 جعلی کمپنیوں کی مہریں

متعدد بینک دستاویزات اور ڈیجیٹل ریکارڈ


یہ تمام مواد جعلی اکاؤنٹس کھولنے اور مالی لین دین کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

تحقیقات کیسے سامنے آئیں؟

سائبر کرائم یونٹ نے جدید ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی، جس کے بعد پورے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک منظم گروہ مختلف بینکوں میں تعینات اہلکاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔

ڈی سی پی وی اروند بابو کے مطابق یہ اندرونی افراد ہی اصل میں اس نیٹ ورک کی “کلیدی کڑی” تھے۔

سخت کارروائی کا انتباہ

حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس طرح کے جرائم میں ملوث کوئی بھی شخص، خواہ وہ کسی بھی عہدے پر ہو، قانون سے بچ نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی اور ایسے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

“آپریشن آکٹوپس” کا پس منظر

یہ کارروائی “آپریشن آکٹوپس 1.0” کے بعد کی گئی ہے، جس میں پہلے ہی 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سینکڑوں جعلی اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا تھا۔

2.0 آپریشن کو اسی سلسلے کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پورے ملک میں پھیلے ہوئے سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔

عوام کے لیے انتباہ

پولیس نے شہریوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے:

کسی کے ساتھ OTP یا بینک تفصیلات ہرگز شیئر نہ کریں

نامعلوم لنکس پر کلک نہ کریں

اپنا بینک اکاؤنٹ کسی غیر متعلقہ شخص کو استعمال کے لیے نہ دیں

کسی بھی مشکوک لین دین کی صورت میں فوراً 1930 پر کال کریں یا سائبر کرائم پورٹل پر شکایت درج کریں

نتیجہ: ڈیجیٹل جرائم کے خلاف بڑی کامیابی

یہ کارروائی بھارت میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ بینک ملازمین کی شمولیت نے اس کیس کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔ یہ کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سائبر جرائم اب صرف ہیکرز تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح تک پہنچ چکے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے سخت اور مسلسل کارروائی ضروری ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *